اتوار، 21 اگست، 2011

ماموں اور مامی خواب میں!۔

کچھ دن قبل خواب میں اپنے مرحوم ماموں (صدیق پرویز) اور مرحومہ مامی کو دیکھا۔ اس خواب میں میرے لیے کچھ پیغام تھا، جو کہ باقی لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس خواب کو لکھنے کی بنیادی وجہ میرے خالہ زاد عثمان قیوم ہیں کہ انھوں نے کہا کہ اس کو بیان کروں۔ اس میں زیادہ دلچسپی تو میری فیملی کے لوگوں کو ہی ہو گی۔

خواب میں میں نے یہ دیکھا کہ میں کسی باہر ملک میں ہوں، غالبا ڈنمارک (میں کچھ عرصہ وہاں رہ چکا ہوں)۔
وہاں میں کسی بلاک کے اندر ہوں جہاں بہت سی بلڈنگ ہیں۔ میں ویاں کسی کام سے آیا تھا (جو کہ مجھے اب یاد نہیں)۔ بلاک سے واپسی کا رستہ میں بھول جاتا ہوں اور پریشان ہوتا ہوں اور غالبا اس وقت گھر کا رستہ بھی یاد نہیں ہوتا۔ میں رستہ کی تلاش میں یہاں وہاں جا رہا ہوتا ہوں کہ اچانک دیکھتا ہوں کہ میرے ماموں اور مامی سامنے کھڑے ہیں، میرے سامنے دائیں ہاتھ پر ماموں اور بائیں ہاتھ پر مامی۔

دونوں نے صاف ستھرے کپڑے پہن رکھے ہیں اور صحت بھی اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مجھے خواب میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں فوت ہو چکے ہیں۔ اور ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے، امید ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی آخرت اچھی کی ہے۔

دوسری مزے کی بات یہ ہے کہ میں خواب میں اکثر جانتا ہوتا ہوں کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ یعنی کسی بھی خوف و خطرہ کی جگہ بلا خوف کود پڑتا ہوں :)۔

ماموں مجھے مخاطب ہو کے کہتے ہیں کہ بیٹا اپنی نمازوں کی حفاظت کرو یا کہتے ہیں کہ اپنی نمازوں کی فکر کرو۔ اور خواب ختم ہو جاتا ہے۔

ویسے تو یہ پیغام صرف میرے لیے ہے، شائد میری نماز میں کوئی کوتاہی تھی، مگر اب دل میں خیال آتا ہے کہ شائد ان کا مقصد یہ بھی تھا کہ یہ پیغام انکی فیملی تک پہنچایا جائے، یعنی سب نماز کی پابندی کریں، یہی بات عثمان قیوم نے بھی خواب سن کر کہی۔ 

بے شک اللہ تعالی کو حساب دینا بہت مشکل کام ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

جمعرات، 4 اگست، 2011

قلم اٹھاتے ہیں، اٹھا کے رکھ دیتے ہیں اکثر

باسط سعید صاحب میرے ایک دوست ہیں اور کمال کے شاعر، تخلیق کار، لکھاری وغیرہ ہیں۔ میں ان کو انٹرنیٹ کے حساب سے تیار کر رہا ہوں، یعنی آپ ان کو میری پروڈکٹ کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کا کلام ان کی اجازت سے، حاظر خدمت ہے۔

ان کی اردو بلاگ اس ربط پر ہے basit92.blogspot.com

فیس بک ربط FaceBook.com/basitchocolate

غم دل کو کھول دیتے ہیں اکثر،
جام اٹھاتے ہیں، اٹھا کے توڑ دیتے ہیں اکثر۔

غم کے میلے، ستانے آ جاتے ہیں،
آنکھوں کو بند کر کے، آنسؤں کو روک لیتے ہیں اکثر۔

تنہائی میں بیٹھے بیٹھائے کبھی کبھی،
یادوں کی زنبیل کھول لیتے ہیں اکثر۔

کبھی ہنستے ہیں، کبھی روتے ہیں،
خود کو پاگل بنا لیتے ہیں اکثر۔

لوگ ملتے ہیں، مل کر بچھڑ جاتے ہیں،
دلوں پے وار کر کے، گھاؤ چھوڑ جاتے ہیں اکثر۔

سپنوں کی دیواریں بنا کر ہم،
خود ہی ان کو گرا دیتے ہیں اکثر۔

جلاتے ہیں خود کو تنہائی میں بھی،
بھیڑ میں بھی رو دیتے ہیں اکثر۔

اٹھاتے ہیں خود کو آسمانوں کی بلندیوں پر،
زیر زمین خود کو دبا دیتے ہیں اکثر۔

لکھتے ہیں حال دل کبھی کبھی باسط،
قلم اٹھاتے ہیں، اٹھا کے رکھ دیتے ہیں اکثر۔

ایپدیٹ 24/08/2011: اس کے علاوہ میری ایک اور پروڈکٹ بھی ہے :)، حمیرا کنول