جمعرات، 4 اگست، 2011

قلم اٹھاتے ہیں، اٹھا کے رکھ دیتے ہیں اکثر

باسط سعید صاحب میرے ایک دوست ہیں اور کمال کے شاعر، تخلیق کار، لکھاری وغیرہ ہیں۔ میں ان کو انٹرنیٹ کے حساب سے تیار کر رہا ہوں، یعنی آپ ان کو میری پروڈکٹ کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کا کلام ان کی اجازت سے، حاظر خدمت ہے۔

ان کی اردو بلاگ اس ربط پر ہے basit92.blogspot.com

فیس بک ربط FaceBook.com/basitchocolate

غم دل کو کھول دیتے ہیں اکثر،
جام اٹھاتے ہیں، اٹھا کے توڑ دیتے ہیں اکثر۔

غم کے میلے، ستانے آ جاتے ہیں،
آنکھوں کو بند کر کے، آنسؤں کو روک لیتے ہیں اکثر۔

تنہائی میں بیٹھے بیٹھائے کبھی کبھی،
یادوں کی زنبیل کھول لیتے ہیں اکثر۔

کبھی ہنستے ہیں، کبھی روتے ہیں،
خود کو پاگل بنا لیتے ہیں اکثر۔

لوگ ملتے ہیں، مل کر بچھڑ جاتے ہیں،
دلوں پے وار کر کے، گھاؤ چھوڑ جاتے ہیں اکثر۔

سپنوں کی دیواریں بنا کر ہم،
خود ہی ان کو گرا دیتے ہیں اکثر۔

جلاتے ہیں خود کو تنہائی میں بھی،
بھیڑ میں بھی رو دیتے ہیں اکثر۔

اٹھاتے ہیں خود کو آسمانوں کی بلندیوں پر،
زیر زمین خود کو دبا دیتے ہیں اکثر۔

لکھتے ہیں حال دل کبھی کبھی باسط،
قلم اٹھاتے ہیں، اٹھا کے رکھ دیتے ہیں اکثر۔

ایپدیٹ 24/08/2011: اس کے علاوہ میری ایک اور پروڈکٹ بھی ہے :)، حمیرا کنول

8 تبصرے :

  1. عطاء رفیع صاحب شکریہ، یہ تو باسط سعید صاحب کا کمال ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اس بے وزن اور قافیہ ردیف سے آزاد شاعری سے بہتر ہے آپ کے دوست کوئی اور کام کرلیں۔ تاکہ نہ آپ کا وقت ضائع ہو اور نہ ان کا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. 'میرا پاکستان'، مجھے شاعری کے وزن وغیرہ کا کچھ خاص پتہ نہیں، مگر مجھے سب پڑھ کر اچھا لگا۔ دل کی آواز لازمی نہیں کہ شاعری کے وزن کے ساتھ ملتی ہو

    جواب دیںحذف کریں
  4. آپ کے شاعر دوست کو شاعری میں اچھی خاصی اصلاح کی ضرورت ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. @عمار ابن ضیا، جی شائد۔ مجھے انکا لکھا ہوا اچھا لگا اس لیے شیئر کر دیا

    جواب دیںحذف کریں

تبصرے اردو میں لکھنے کے لیے ان روابط کو ایک نئی ٹیب میں کھولیں اور اردو لکھ کر کاپی پیسٹ سے کام چلائیں (:
اردو ایڈیٹر

مستقل اردو لکھنے کے لیے اس ربط پر جائیں۔