بدھ، 30 جون، 2010

وائرس اور اینٹی وائرس سے جان چھڑائیں

آپ کمپیوٹر میں چند اقدامات کر کے وائرس اور انٹی وائرس دونوں سے جان چھڑا سکتے ہیں، جی انٹی وائرس سے بھی!‌ کیونکہ یہ دونوں ہی کمپیوٹر کی کارکردگی متاثر کرتے ہیں۔
  • لینکس اپریٹنگ سسٹم انسٹال کریں، وائرس کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اسی لیے انٹی وائرس کی ضرورت بھی نہیں
  • یوزر اکاونٹ ضرور بنائیں۔ روزمرہ یوزر اکاونٹ کا استعمال کریں۔ ایڈمنسٹریٹر اکاونٹ پروگرام وغیرہ انسٹال کرنے کے لیے ہی استعمال کریں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی وائرس حملہ کرتا ہے تو یوزر اکاونٹ میں رہتے ہوئے کم نقصان ہوتا ہے جبکہ ایڈمنسٹریٹر اکاونٹ استعمال کرتے ہوئے وائرس حملہ کرے تو پورا کمپیوٹر خراب ہو سکتا ہے
  • سی ڈی، ڈی وی ڈی، یو ایس بی فلیش ڈرائیو، فولڈر وغیرہ کو ڈبل کلک کر کے مت کھولیں، بلکہ مائی کمپیوٹر پر رائٹ کلک کر کے ایکسپلوئر کی آپشن منتخب کریں اور بائیں طرف آنے والی ونڈو کو استعمال کرنے ہوے اپنی منزل پر جائیے۔ وجہ یہ ہے کہ ڈبل کلک کرنے سے کچھ خودکار پروگرام چل سکتے ہیں جو کہ وائرس بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ اس فائل کو ہارڈ ڈسک کی تمام ڈرائیوز اور یو ایس بی فلیش ڈرائیو میں‌ کشید/ایکسڑیکٹ کر لیں۔ فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کی تمام ڈرائیوز پر آئیکون لگا آ جائے گا اور دوسرا یہ کہ آگر آپ ان پر ڈبل کلک کریں‌گے تو یہ آپ کو پیغام دے کر اس طرح‌ کھولنے سے روک دے گا۔ بالفرض بعد میں آپ کی فلیش ڈرائیو میں کسی اور کمپیوٹر پر استعمال کرنے سے وائرس آ گیا تو جب آپ اس کو اپنے کمپیوٹر پر لگائیں گے تو مخصوص آئیکون نظر نہ آنے پر آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کی فلیش میں ؤائرس آ چکا ہے۔ پھر وائرس کو ختم کرنے کے لیے اوپر بتائی گئی فائل کو دوبارہ ڈال دیں اور فالتو فائلیں ختم کر دیں
  • فائل ایکسٹنشن کو ظاہر رکھیں۔ وجہ یہ ہے کہ کچھ ؤائرس فولڈر یا دوسرے پروگرام کا آئیکون لگائے ہوتے ہیں
  • ونڈوز فائل سسٹم کو این ٹی ایف ایس رکھیں، یہ فیٹ 16 یا 32 سے زیادہ بہتر ہے
  • سسٹم ریسٹور کی آپشن کو فعال رکھیں تاکہ کسی خرابی کی صورت میں سسٹم کو پرانی حالت میں واپس لا سکیں
  • البتہ کبھی کبار اینٹی وائرس انسٹال کر کے پورے سسٹم کو سکین کرنا چاہیے اور بعد میں بے شک ان انسٹال کر دیں
  • اردو نامہ کے چاند بابو کی مفید ٹپ، "وہ یہ کہ انٹرنیٹ پر ہیکنگ اور وائرس کے پھیلاؤ میں 90 فیصد تک سورس پورنو اور گھٹیا مواد پر مشتمل سائیٹس ہیں ان سائیٹس کا وزٹ نہ کرنا بھی وائرس سے بچاو کا ایک بہترین طریقہ ہے"
  • ایک تدبیر ابن سعید کی، جب سسٹم درست حالت میں ہو تو اس وقت اس کا ڈسک کلون بنا کر کسی پورٹیبل ڈسک یا ری رائٹیبل ڈی وی ڈی میں محفوظ کر لیں۔ اور آئندہ جب بھی سسٹم مزید وسائل/سافٹوئیرس سے لیس ہو اور اطمینان بخش حآلت میں ہو تو دوبارہ اس کا کلون بنا کر اسی ڈی وی ڈی میں محفوظ کر لیں۔ یوں ہمیشہ آپ کے پاس لاسٹ بیسٹ کنفیگیوریشن دستیاب رہے گی۔ اور جب بھی کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ونڈوز پارٹیشن کو فارمیٹ کریں اور کلون کو وہاں کاپی کر دیں۔ آپ کا سسٹم بالکل اس حالت میں دستیاب ہو گا جیسا اس کا بیک اپ لیا تھا۔ اس کام میں بمشکل دس سے پندرہ منٹ صرف ہونگے۔ اور آپ کا سسٹم ایسے ری اسٹور ہو جائے گا کہ براؤزر کی ہسٹری، بک مارک اور کیشے تک موجود ہوں گے۔ یہ کام نارٹن کی گھوسٹ میکر یوٹیلٹی سے کی جائے تو وہ ڈسک کی سائز کو کمپریس کر کے نصف تک کر دیتا ہے

اینٹی وائرس استعمال نہ کرنے کی وجوہات، ابن سعید کی نظر سے
  • اینٹی وائرس از خود بہت برے وائرس ہوتے ہیں۔ اور لوگ انہیں اپنی خوشی سے اپنے سسٹم میں پالتے ہیں۔
  • پروسیسر میموری اور دوسرے رسورسیز کا جتنا حصہ اینتی وائرسیز کے قبضے میں ہوتا ہے اتنا شاید ہی کسی پروگرام کو ملتا ہو۔
  • جتنا اچھا اینٹی وائرس اتنا ہی سسٹم پر بوجھ۔ مثلاً ایک اینتی وائرس اگر ہمارے کلکس کو بھی نگاہ میں رکھے کہ کچھ غلط تو نہیں ہو رہا تو اس کے نتیجے میں یہ ہو گا کہ کسی بھی رائٹ کلک کے فوراً بعد اس کا ایک ماڈیول اس بات کی توثیق کرے گا اور یوں پاپ اپ مینو ظاہر ہونے میں بھی تھوڑی تاخیر ہوگی۔ و علیٰ ہٰذا لقیاس۔
  • اینٹی وائرس کمپنیاں ہی زیادہ تر وائرس بناتی اور شائع کرتی ہیں تاکہ اس کا حل دینے والوں میں سب سے پہلے انھیں کا نام آئے اور یوں ان کا کاروبار چلتا رہے۔
  • اینٹی وائرس کتنا بھی اچھا ہو وہ آنے والے نئے وائرسوں میں سے کتنوں کو ڈیٹیک کر پانے میں کامیاب ہو پاتا ہے؟ آخر کار دس دن بعد نہ سہی بارہ دن بعد سسٹم متاثر ہو ہی جاتا ہے۔ اور جو زیادہ ایڈوانسڈ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ان میں آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ ایک عدد ٹیکسٹ فائل بھی کھولئے تو مشتبہ قرار دے دیتے ہیں۔
  • ایسے بیشمار وجوہات ہیں جن کے باعث میں نے اینتی وائرس کو ہمیشہ نا پسند کیا۔
چند مزید تدابیر اور ویڈیو اس ربط پر دستیاب ہے۔

    9 تبصرے :

    1. لینکس پر کیا واقعی وائرس نہیں ہوتا؟

      جواب دیںحذف کریں
    2. @سعد, ہوتے ہیں، تعداد نہ ہونے کے برابر ہے یا اتنے خطرناک نہیں ہوتے، اسی لیے لکھا 'خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے'، یعنی خطرہ ہے مگر کم۔

      جواب دیںحذف کریں
    3. طارق صاحب، حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ۔

      جواب دیںحذف کریں
    4. ماشا؍اللہ کافی مفید معلومات ہیں ۔۔ دیکھ کر خوشی ہوئی

      جواب دیںحذف کریں
    5. زندہ باد / اُردو کے لیے بُہت اچّھی جدوجہد کررہے ہیں ۔۔

      جواب دیںحذف کریں
    6. شکریہ جناب، بس دعائوں میں یاد رکھیں

      جواب دیںحذف کریں
    7. یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

      جواب دیںحذف کریں

    تبصرے اردو میں لکھنے کے لیے ان روابط کو ایک نئی ٹیب میں کھولیں اور اردو لکھ کر کاپی پیسٹ سے کام چلائیں (:
    اردو ایڈیٹر

    مستقل اردو لکھنے کے لیے اس ربط پر جائیں۔