ہفتہ, ستمبر 25, 2010

ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

(میرے ایک دوست، طارق فیض صاحب، سے ای میل ملی ہے، جو انکو بھی کسی دوست سے ملی، بہرحال جس نے بھی شروعات کی اور باقی سب لوگوں کو بھی اللہ تعالی اچھا اجر دے، آمین)

("يہ ای ميل محمد سلیم صاحب نے شانتو- چين سے بھيجی تھی ۔ اُنہوں نے ہی اس واقعہ کا اُردو ميں ترجمہ کيا تھا ۔ اور ميرے سميت کئی لوگوں کو پہنچی ۔ محمد سلیم صاحب نے اپنے لئے دعا کی بھی درخواست کی تھی"، افتخار اجمل بھوپال)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

نوٹ: اس ای میل کو پڑھتے ہوئے کسی لمحے آپکو اپنی آنکھوں میں نمی سی محسوس ہو تو جہاں اپنی مغفرت کی دعاء کیجئے وہان اس خاکسار کو بھی یاد کر لیجیئے گا۔

دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر ؓ یہ ہے وہ شخص!

سیدنا عمر ؓ ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟

یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔

کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

سیدنا عمر ؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟

وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔

کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

یا عمرؓ، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔

پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔

وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔

سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں: کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟

مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمے یا گھروغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر ؓ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا عمرؓ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔

نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟

ابو ذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔

چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمرؓ: جانتے ہو اسے؟

ابوذرؓ: نہیں جانتا اسے۔

عمرؓ: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟

ابوذرؓ: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

عمرؓ: ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔

سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔

اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

ابو ذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔

مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذرؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لمحات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

سیدنا عمرؓ نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

ابوذرؓ نے کہا، اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔

سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟

نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔

سیدناؓ عمر اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

اے ابو ذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔

اور اے اللہ، جزائے خیر دینا انکو بھی، جن کو یہ ای میل اچھی لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ۔ آمین یا رب العالمین۔

پیر, ستمبر 20, 2010

میرے تبصرے پر تبصرہ

"میرے تبصرے" پوسٹ پر یہاں تبصرہ کریں، کیونکہ وہاں میرے علاوہ کسی کو تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ وہاں تبصروں میں صرف میرے مختلف بلاگز پر کیے گے تبصرے ہوں گے

میرے تبصرے

نوٹ: اگر آپ یہاں پر تبصرہ کریں گے تو بتائے بغیر ختم کر دیا جائے گا۔
(Click here to view this post in English language)
آپ کے نام سے تبصروں کے غلط استعمال سے بچاؤ کے بارے میں ایک آسان، مگر عملی طور پر مشکل، ترکیب سمجھ آئی ہے کہ آپ ایک پوسٹ یا صفحہ "میرے تبصرے" کے نام سے اپنی بلاگ پر بنائیں جس میں دوسروں کے تبصرے پر پابندی ہو۔ پھر جس کے بلاگ پر تبصرہ کرنا ہو وہاں اس کا لینک دے کر تبصرہ کریں۔ اور اپنی پوسٹ "میرے تبصرے" پر خود اپنے تبصرے کو کاپی پیسٹ کریں اور لینک میں جس جگہ آپ نے اصل میں تبصرہ کیا ہے اسکا لینک دے دیں اور نام کے خانے میں اصل پوسٹ کا نام لکھ دیں۔

اگرچے یہ عملی طو پر مشکل ہے مگر ایسے کرنے سے آپ کو دوسرے فائدے بھی ہوں گے، مثلا آپ کے پاس اپنے تبصروں کا ایک ریکارڈ بھی بن جائے گا اور آپ کا بلاگ پڑھنے والے بھی ایک جگہ پر سے آپ کی دوسروں کے بارے میں رائے سمجھ سکتے ہیں۔

کچھ دوستوں کو شکایت ہے کہ یہ طریقہ الجھا ہوا یا مشکل ہے جو کسی حد تک درست ہے۔ یہاں پر اسے سلجھانے کی کوشش کی جائے گی۔

مسلہ نمبر 1
اگر اپکی پوسٹ 'میرے تبصرے' پر تبصرہ کرنے پر پابندی ہو گی تو آپ خود اس پر کیسے تبصرہ کریں گے؟

اس کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ دو مختلف ویب برائوزر کھو لیں یا انٹرنیٹ ایکسپلورر کی دو مختلف ونڈوز کھو لیں اور اپنی بلاگ پر جائیں۔ ایک برائوزر یا انٹرنیٹ ایکسپلورر میں اپنی بلاگ پر لوگ ان ہو کر پوسٹ 'میرے تبصرے' پر جائیں اور تبصروں کو عارضی طو پر فعال کر دیں اور دوسرے برائوزر یا انٹرنیٹ ایکسپلورر سے اپنا تبصرہ دیں اور پہلی والے برائوزر یا انٹرنیٹ ایکسپلورر سے پھر تبصروں کو بند کر دیں۔

یا اسکا آسان حل یہ ہوسکتا ہے کہ تبصروں پر پابندی نہ لگائیں اور ایک نوٹ لکھ دیں جیسا کہ نیچے نوٹ 2 ہے۔

نوٹ 1: اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لیے میری پوسٹ "میرے تبصرے پر تبصرہ" پر تشریف آئیں، کیونکہ یہاں تبصروں میں صرف میرے مختلف بلاگز پر کیے گے تبصرے ہوں گے۔

نوٹ 2: اگر آپ یہاں پر تبصرہ کریں گے تو بتائے بغیر ختم کر دیا جائے گا۔

اتوار, ستمبر 19, 2010

لینکس انسٹال کریں


(Click here to view this post in English language)

لینکس کیا ہے؟‌ یہ ایک کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ہے۔



اسکو مختلف طریقوں‌ سے انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ مثلا

طریقہ نمبر 1: آسان طریقہ: اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کی رفتار اچھی ہے تو یہ آسان طریقہ استعمال کریں


1۔ ووبی ونڈوز سافٹ وئیر ڈاؤنلوڈ کریں۔

2۔ ووبی کو رن کریں اور پاسورڈ دے کر انسٹال کے بٹن پر کلک کریں۔ یوزر نیم اور پاسورڈ یاد رکھیں، بعد میں ضرورت پڑے گا۔

3۔ جب ڈاؤنلوڈ ختم ہو گا تو یہ آپ کو کمپیوٹر ریسٹارٹ کرنے کا کہے گا۔

4۔ جب کمپیوٹر ریسٹارٹ ہو تو اس میں لینکس کو منتخب کریں۔ جب یہ پہلی دفعہ چلے گا تو انسٹالیشن کے باقی ماندہ حصے پورے کرے گا۔

5۔ اور مجھے دعاؤں ‌میں یاد رکھیں۔

بعد میں اگر آپ اس کو ان انسٹال کرنا چاہتے ہیں تو ونڈوز کے کنٹرول پینل سے بآسانی کر سکتے ہیں۔

طریقہ نمبر 2:بہتر آسان طریقہ: اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کی رفتار اچھی ہے تو یہ بہتر آسان طریقہ استعمال کریں
اگر آپ نے ایک کمپیوٹر پر لینکس انسٹال کرنی ہے تو طریقہ نمبر 1 کافی ہے، مگر جب ایک سے زیادہ کمپیوٹر ہوں‌ یا آپ کو دوبارہ اپنے کمپیوٹر پر لینکس انسٹال کرنی ہو تو یہ طریقہ بہتر آسان ہے۔ طریقہ نمبر 1 میں‌ سٹیپ 2 سے پہلے یہ کام کریں۔

1.1۔ لینکس کی آئی ایس او (ISO) فائل ڈاؤنلوڈ کریں۔

1.2۔ ووبی اور آئی ایس او فائل دونوں کو ایک ہی فولڈر میں‌ رکھیں۔

1.3۔ اور باقی طریقہ ایک جیسا ہی ہے۔

طریقہ نمبر 3:بہتر طریقہ: اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کی رفتار اچھی ہے تو یہ بہتر طریقہ استعمال کریں
اگر آپ نے ایک کمپیوٹر پر لینکس انسٹال کرنی ہے تو طریقہ نمبر 1 کافی ہے، مگر جب ایک سے زیادہ کمپیوٹر ہوں‌ یا آپ کو دوبارہ اپنے کمپیوٹر پر لینکس انسٹال کرنی ہو یا لینکس کی فل انسٹالیشن کرنی ہو تو یہ طریقہ بہتر ہے۔
1۔ لینکس کی آئی ایس او (ISO) فائل ڈاؤنلوڈ کریں یا اپنی پسند کی لینکس ڈاؤنلوڈ کریں (یہ ضروری نہیں کہ آپ کی پسند کی لینکس ونڈوز کے اندر انسٹال ہو سکے)۔

2۔ آئی ایس او فائل کو سی ڈی پر برن کریں یا یو ایس بی ڈرائیو پر انسٹال کریں۔سی ڈی برن کرنے اور یو ایس بی ڈرائیو بنانے کا طریقہ کار اوپر لینک پر دیا گیا ہے۔

3۔ اب اس سی ڈی یا یو ایس بی ڈرائیو کو ونڈوز میں چلائیں‌ اور ونڈوز کے اندر انسٹال کر لیں۔ بعد میں اگر آپ اس کو ان انسٹال کرنا چاہتے ہیں تو ونڈوز کے کنٹرول پینل سے بآسانی کر سکتے ہیں۔
Install Inside Windows

اوپر لینک میں لینکس کو فل انسٹال کرنے کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے، لیکن بہتر ہے کہ آپ پہلے فل انسٹال نہ کریں یا پہلے تسلی کر لیں کہ سب چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں، کیونکہ اسے آپ ان انسٹال نہیں کر سکتے، بلکہ مشکل ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ فل انسٹالیشن ونڈوز بوٹ لوڈر کو بھی تبدیل کرتی ہے۔ یہ بھی اگرچے خطرناک بات نہیں کیونکہ آپ ونڈوز کی سی ڈی سے اسکا بوٹ لوڈر واپس لا سکتے ہیں۔ فل انسٹالیشن کی اچھی بات یہ ہے کہ لینکس نسبتا تیز چلتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے آپکو دوبارہ فل انسٹالیشن کرنے کی ضرورت‌ہے تو اس ربط کو چیک کر لیں۔

طریقہ نمبر 4:لمبا طریقہ: اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ کی رفتار اچھی نہیں ہے تو یہ طریقہ استعمال کریں
مفت سی ڈی حاصل کرنے کے لیے اس ربط پر درخواست دیں۔‌ یاد رہے کہ سی ڈی آپ کو چار پانچ ہفتوں بعد ملے گی۔


مزید معلومات ان روابط پر

اتوار, ستمبر 12, 2010

بچوں والے گھر کے لیے ایکسٹر لاک

آپ کمپیوٹر پر ویڈیو یا کوئی اور چیز دیکھ رہے ہیں، اچانک کوئی بچہ کیبورڈ یا مائوس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے سب کچھ خراب کر دیتا ہے اور آپ کو دوبارہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا علاج ہے ایکسٹر لاک، xtrlock۔ یہ لینکس کے لیے ایک چھوٹا سا پروگرام ہے جو کیبورڈ اور مائوس کو لاگ کر دیتا ہے۔ درست پاسورڈ دے کر انٹر کی دبانے سے لاک ختم ہو جائے گا۔ یہ اوبنٹو سافٹویئر سنٹر سے با آسانی انسٹال ہو سکتا ہے۔ "ایکسٹر لاک کی خاصیت یہ ہے کہ لاک کرنے کے بعد بھی سکرین پر جو پروگرام چل رہے ہوں گے وہ ویسے ہی نظر آتے رہیں گے۔ مثلا سکرین لاک کر کے آپ کوئی فلم دیکھ سکتے ہیں۔ "، عمار عاصی

استعمال کرنے کے لیے کمانڈ
xtrlock

یا اسکا شارٹ کٹ بنا لیں یا پینل پر آئیکون۔

xtrlock